گھر میں آنے جانے کی سنتیں اور آداب

ghar-anay-janay-ki-sunnatain-aur-adab


گھر میں آنے جانے کی سنتیں اور آداب

ہمیں ہر روز اپنے یا کسی عزیز یا دوست واحباب کے گھر میں جانے کی حاجت پڑتی رہتی ہے تو ہمیں یہ معلوم ہونا چاہے کہ گھر میں داخل ہونے کا سنت طریقہ کیا ہے؟ کسی کے گھر میں جائیں تو دروازے کے سامنے کھڑے ہوں یا ایک طرف ہٹ کر؟ اور کس طرح اجازت طلب کریں؟ اگر اجازت نہ ملے تو کیا کرنا چاہے؟ دعا پڑھ کر گھر سے نکلنے کی کیا کیا برکتیں ہیں؟ اگر گھر میں کوئی موجود نہ تو کیا پڑھنا چاہے؟ گھر میں داخل ہونے اور اجازت طلب وغیرہ کے حوالے سے متعدد سنتیں اور آداب ہیں:

(۱) اپنے گھر میں آتے ہوئے بھی سلام کریں اور جاتے ہوئے بھی سلام کریں۔ حضور تاجدار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے کہ جب تم گھر میں آؤ تو گھر والوں کو سلام کرو اور جاؤ تو سلام کر کے جاؤ۔

حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ القوی مراٰۃ المناجیح جلد6 صفحہ9 پر تحریر فرماتے ہے: ” بعض بزرگوں کو دیکھا گیا ہے کہ اول دن میں جب پہلی بار گھر میں ہوتے تو بسم اللہ اور قل ہو اللہ پڑھ لیتے ،کہ اس سے گھر میں اتفاق بھی رہتا ہے اور رزق میں برکت بھی۔”

(۲)اللہ عزوجل کا نام لئے بغیر جو گھر میں داخل ہوتا ہے، شیطان بھی اس کے ساتھ گھر میں داخل ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” جب آدمی گھر میں داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ عزوجل کا ذکر کرتا ہے تو شیطان کہتا ہے:”آج یہاں نہ تمہاری رات گزر سکتی ہے اور نہ تمہیں کھانا مل سکتا ہے۔ اور جب انسان گھر میں بغیر اللہ عزوجل کا ذکر کئے داخل ہوتا ہے تو شیطان کہتا ہے، آج کی رات یہیں گزرے گی۔ اور جب کھانے کے وقت اللہ عزوجل کا نام نہیں لیتا تو وہ کہتا ہے:” تمہیں ٹھکانہ ابھی مل گیا اور کھانا بھی مل گیا۔”

(۳)جب کوئی خوش نصیب اپنے گھر سے باہر جاتے وقت باہر جانے کی دعا پڑھ لیتا ہے تو وہ گھر لوٹنے تک ہر بلا وآفت سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ سرکار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی سنتوں پر عمل کرنے میں برکت ہی برکت ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور تاجدار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:” آدمی اپنے گھر کے دروازے سے باہر نکلتا ہے تو اس کے ساتھ دو فرشتے مقرر ہوتے ہیں۔ جب وہ آدمی کہتا ہے کہ ” بِسْمِ اللہِ ” تو وہ فرشتے کہتے ہیں تو نے سیدھی راہ اختیار کی۔ اور جب انسان کہتا ہے، لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ ” تو فرشتے کہتے ہیں اب تو ہر آفت سے محفوظ ہے۔ جب بندہ کہتا ہے تَوَکَّلْتُ عَلَی اللہِ تو فرشتے کہتے ہیں۔ اب تجھے کسی اور کی مدد کی حاجت نہیں، اس کے بعد اس شخص کے دو شیطان جو اس پر مسلط ہوتے ہیں وہ اس سے ملتے ہیں فرشتے کہتے ہیں اب تم اس کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہو؟ اس نے تو سیدھا راستہ اختیار کیا۔ تمام آفات سے محفوظ ہو گیا اور خدا عزَّوجلَّ کی امداد کے علاوہ دو سرے کی امداد سے بے نیاز ہو گیا۔”

(۴)جب کسی کے گھر جانا ہو تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے اندر آنے کی اجازت حاصل کیجئے پھر جب اندر جائیں تو پہلے سلام کریں پھر بات چیت شروع کیجئے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا:” تین مرتبہ اجازت طلب کرو اگر اجازت مل جائے تو ٹھیک ورنہ واپس لوٹ جاؤ۔”

(۵) جو سلام کئے بغیر گھر میں داخلے کی اجازت مانگے اسے داخلہ کی اجازت نہ دی جائے۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم رءوف رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا:” جو شخص سلام کے ساتھ ابتداء نہ کرے اس کو اجازت نہ دو ۔”

گھر میں داخلہ کی اجازت مانگنے میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ فورا گھر میں باہر والے کی نظر نہ پڑے۔ آنے والا باہر سے سلام کر رہا ہو، اجازت چاہ رہا ہو اور صاحب خانہ پردہ وغیرہ کا انتظام کر لے۔ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں کہ حضور تاجدارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا:” اجازت طلب کرنے کا حکم آنکھ کی وجہ سے دیا گیا ہے۔

(۶) جب کسی کے گھر جانا ہو اجازت مانگنا سنت ہے۔ بہتر یہ ہے کہ اس طرح اجازت مانگیں ”اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ”کیا میں اندر آسکتا ہوں ؟” حضرت رِبعی بن حراش رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ، ہمیں بنو عامر کے ایک شخص نے یہ بات بتائی کہ اس نے حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے اجازت طلب کی۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم گھر میں تشریف فرما تھے۔ اس نے عرض کیا، کیا میں داخل ہوجاؤں؟ حضور نبی کریم رءوف رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے اپنے خادم سے فرمایا: باہر اس آدمی کے پاس جاؤ اور اس کو اجازت طلب کرنے کا طریقہ سکھاؤ، اس سے کہو کہ اس طرح کہے، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کیا میں داخل ہو سکتا ہوں ؟”اس آدمی نے سر کار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا ارشاد سن لیا اور عرض کیا، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کیا میں داخل ہو سکتا ہوں ؟ تو سرکار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے اس کو اجازت عطا فرمائی اور وہ اندر داخل ہوا۔

حضرت کلدہ بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں۔ میں حضور سید دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوا۔ میں جب اندر داخل ہوا اور سلام عرض نہ کیا تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، ” لوٹ جاؤ اور یہ کہو، ”اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ” کیا میں داخل ہو سکتا ہوں؟”

(۷)اگر کوئی شخص آپ کو بلانے کے لئے بھیجے اور بھیجا ہوا شخص آپ کو ساتھ لے کر جائے تو اب اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔ ساتھ والا شخص ہی خود ”اجازت” ہے جیسا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: ” جس وقت تم میں سے کسی کو بلایا جائے، اور وہ ایلچی (یعنی قاصد) کے ساتھ آئے یہ اس کا اِذن (اجازت) ہے۔” ایک اور روایت میں ہے کہ آدمی کا کسی کو بلانے کے لئے بھیجنا اس کی طرف سے اجازت ہے۔

(۸)اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لئے کھنکارنا چاہے جیسا کہ مولائے کائنات حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت بابر کت میں ایک مرتبہ رات کے وقت اور ایک مرتبہ دن کے وقت حاضر ہوتا تھا۔ جب میں رات کے وقت آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے پاس حاضری دیتا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم میرے لئے کھنکارتے۔”

جب کسی کے گھر جائیں تو دروازے سے گزرتے وقت ضرور تاً دوسرے کمرے کی طرف جاتے ہوئے کھنکار لینا چاہے تاکہ گھر کے دیگر افراد کو ہماری موجودگی کا احساس ہو جائے اور وہ آگے پیچھے ہو سکیں۔

(۹)اگر دروازے پر پردہ نہ ہو تو ایک طرف ہٹ کر کھڑے ہوں۔ حضرت عبد اللہ بن بسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم جب کسی کے دروازہ پر تشریف لاتے تو دروازے کے سامنے کھڑے نہ ہوتے بلکہ دائیں یا بائیں جانب کھڑے ہوتے پھر فرماتے ” اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ” ”اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ” اور یہ اس لئے کہ ان دنوں دروازوں پر پردے نہیں ہوتے تھے۔

(۱۰)جب کوئی کسی کے گھر جائے تو اندر سے جب کوئی دروازے پر آئے تو پوچھے کون ہے؟ باہر والا ”میں” نہ کہے جیسا کہ آج کل بھی یہی رواج ہے۔ بلکہ اپنا نام بتائے ۔جواباً ” میں ” کہنا سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کو پسند نہیں۔ (بہار شریعت،حصہ۱۶،ص۸۳)
جیسا کہ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرمایا، میں مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور دروازہ کھٹکھٹایا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: کون ہے؟ میں نے عرض کی ”میں” آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: میں، میں کیا؟ گویا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے اس کو ناپسند فرمایا۔

(۱۱)کسی کے گھر میں جھانکنا نہیں چاہے، جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، رسول اکرم شفیع روز محشر صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم خانہ اقدس میں تشریف فرما تھے کہ ایک شخص نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کو جھانکا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے نیزہ کی نوک اس کی طرف کی چنانچہ وہ پیچھے ہٹ گیا۔”

اسی طرح کسی موقع پر سرکا رمدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم در دولت پر جلوہ فرما تھے اور کسی نے جب سوراخ سے جھانک کر دیکھا تو سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے اظہار ناراضگی فرمایا۔ جیسا کہ حضرت سہل بن ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم، نورِ مجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کو ایک شخص نے حجرہ مبارک کے سوراخ سے جھانکا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم لوہے کی کنگھی سے سر مبارک کھجا رہے تھے فرمایا: اگر میری توجہ اس طرف ہوتی کہ تو دیکھ رہا ہے تو اس لوہے کی کنگھی کو تیری آنکھ میں چبھو دیتا۔ نظر سے بچاؤ کے لئے ہی تو اجازت طلب کرنے کا حکم ہے۔
دوسروں کے گھروں میں جھانکنے سے بچنے کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے گھروں کے دروازے یا کھڑکیاں بند رکھنی چاہیں یا ان پر کوئی سادہ سا پردہ وغیرہ ڈال دینا چاہے جس کی وجہ سے بے پردگی نہ ہو

(۱۲)گھر کے انتظامات پر بے جا تنقید نہ کریں جس سے میزبان کی دل آزاری ہو۔ ہاں ، اگر ناجائز بات دیکھیں، مثلاً جانداروں کی تصاویر وغیرہ آویزاں ہوں تو احسن طریقے سے سمجھا دیں۔ ہو سکے توکچھ نہ کچھ تحفہ پیش کریں خواہ کتنا ہی کم قیمت ہو، محبت بڑھے گی۔

(۱۳)جو کچھ کھانے پینے کو پیش کیا جائے۔ کوئی صحیح مجبوری نہ ہو تو ضرور قبول کریں۔ ناپسند ہو جب بھی منہ نہ بگاڑیں کہ میزبان کی دل شکنی ہوگی۔

(۱۴)واپسی پر اہل خانہ کے حق میں دعا بھی کریں اور شکریہ بھی ادا کریں۔

(۱۵)سلام کرنے کے بعد رخصت ہوں۔

(۱۶)گھر میں اگر کوئی نہ ہو تو ”اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ” کہیں کہ مومنوں کے گھر میں سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی روح مبارک تشریف فرما ہوتی ہے۔

(۱۷) جب گھر سے باہر نکلیں تو یہ دعا پڑھیں :
” بِسْمِ اللہِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللہِ لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ”
ترجمہ : اللہ عزوجل کے نام سے، اللہ عزوجل ہی کی طرف سے طاقت وقوت ہے اللہ عزوجل ہی کے بھروسے پر۔

اے ہمارے پیارے اللہ عزوجل! ہمیں گھر میں آنے جانے کی سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق مرحمت فرما۔” امین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم